10 جولائی 2012 - 19:30

کوئٹہ… بلوچستان امن و امان کيس ميں چيف جسٹس افتخار محمد چوہدري نے ريمارکس ديئے ہيں کہ صوبے ميں ہر شخص کے چہرے پر مايوسي کيوں ہے، بلدياتي نظام ہوتا تو لوگوں کے مسائل حل ہوجاتے، ايف سي کے و کيل نے عدالت سے کل تک کي مہلت مانگ لي جبکہ چيف جسٹس نے ايف سي کے وکيل سے کہا ہے کہ يا تو سارے بندے لے کر آئيں يا سارے کمانڈنٹس کو بلائيں

ابنا: سپريم کور ٹ کوئٹہ رجسٹري ميں جاري بلوچستان امن وامان کيس کي سماعت ميں ڈي سي خضدار نے چيف جسٹس کے استفسار پر بتاياکہ ايف سي نے دوہزار گيارہ ميں توتک ميں کي جانے والي کارروائي کے بارے ميں نہيں بتايا

 چيف جسٹس نے ريمارکس ديے کہ پاکستان کے اس حصے ميں وہ کام ہورہا ہے جو وہ اپنے منہ سے نہيں کہہ رہے، سپريم کور ٹ سب کچھ ا پنے اوپر لے رہي ہے، اگر کل سب ايف سي کمانڈنٹس کو بلايا ، ان کے بيانات کے بعد آرڈر کيا تو پھر آپ ديکھيں گے ،

چيف جسٹس نے ايف سي کے وکيل سے کہاکہ آپ يہ سارے غلط کا م بند کريں ، آپ کو دو کام کرنے ہيں ، يا تو بندے لے آئيں يا سارے کمانڈنٹس کو بلائيں ،  کمشنر ، ڈي سي اور ليويز سميت کسي کو کچھ نہيں پتا کے ايف سي کارروائي کررہي ہے ايف سي کے وکيل راجہ ارشاد نے عدالت سے کل تک کي مہلت کي استدعا کي چيف جسٹس نے ايف سي وکيل سے کہاکہ کيا وجہ ہے کہ ہر دوسرے تيسرے کيس ميں لوگ ايف سي کو شامل کرتے ہيں ،ايف سي کے وکيل نے کہا ان کا يہ بيان ريکارڈ پر ہے کہ ايک بھي لاپتا شخص ايف سي کے پاس نہيں ، چيف جسٹس نے ريمارکس ديے کہ يہ ريکارڈ ايف سي اور تحصيلدار کي نااہلي ہے ، کل انکوائري کے بعد شايد ہم ا نہيں گرفتار بھي کرواديں

چيف سيکريٹري نے عدالت کو بتايا کہ سياسي وجوہات اور سابقہ لوکل باڈيز سٹسم نے صوبے کو کئي سال پيچھے دکھيل ديا ہے، جس پر چيف جسٹس نے کہاکہ بلدياتي نظام ہوتا تولوگوں کے مسائل حل ہوجاتے

چيف جسٹس نے سيکريٹري داخلہ کو حکم ديا کہ بلوچستان بھر سے ملنے والي لاشوں کا مکمل ڈيٹا تيار کريں ، خدا کو مانيں ، اللہ سے ڈريں ،اورليويز کو لوگوں کے گھروں کي ڈيوٹيوں سے واپس بلائيں . .......

/169